تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

Tanzeem Al-Madaris AhleSunnat Pakistan

علم باعثِ شرفِ انسانیت
یوبی ایل اکاونٹ نمبر: 0161-200636452

اطلاعات و دیگر صفحات

اغراض ومقاصد و قواعدوضوابط

اغراض ومقاصد

مدارس عربیہ اہلسنت و جماعت میں اتحاد ویکجہتی پیداکراکے باہم مربوط کرنا اور معیارِ تعلیم کو بہتر بنانا۔

نصاب درسِ نظامی میں وقت کے تقاضوں کے مطابق مناسب ترامیم واضافہ کرنا۔

ملحقہ مدارس کے امتحانات کا انعقاد کرنا اور کامیاب طلباء کو اسناد جاری کرنا۔

حسب ضرورت مختلف موضوعات پر تصنیف وتالیف کے لئے شعبہ تحقیق وترجمہ قائم کرنا۔

مسائل جدیدہ پر غوروفکر اور ان کے حل کے لئے مناسب و مؤثر ذرائع اختیار کرنا۔

علم اور علماء کے وقار کی بحالی کے لیے کوشش کرنا۔

یہ تنظیم خالصتاً مذہبی، تعلیمی اور غیر سیاسی ہوگی۔

قواعدوضوابط

سالانہ امتحان میں شرکت کرنے والا امیدوار اگر دو یا ایک پیپر میں ناکام رہا تو مجاز ضمنی (سپلیمنٹری) قرار پاتا ہے اور 3 پیپروں میں ناکام ہونے والا مکمل (Full Appear) چھ پیپروں کا امتحان دے گا۔ مجاز ضمنی قرار پانے والے کو دو چانس دئے جاتے ہیں: ۱۔ آئندہ ضمنی ۲۔ آئندہ سالانہ امتحان۔ عام ازیں کہ داخلہ فارم بھیجے یا نہ بھیجے، امتحان میں شرکت کرے یا نہ کرے — اس کا چانس شمار کیا جائے گا۔

کسی بھی درجے کا سال اول (عامہ سال اول، خاصہ سال اول، عالیہ سال اول، عالمیہ سال اول) میں مجاز ضمنی قرار پانے والا سال دوم کے ساتھ ضمنی کا پرچہ بھی اور دوم کے تمام پرچہ جات ایک ہی امتحان میں دے سکتا ہے۔ واضح رہے کہ امیدوار ٹوٹل 8 پرچہ جات ہی دے سکتا ہے۔

کسی بھی درجہ کے سال دوم میں تو کامیاب ہوا مگر سال اول میں مجاز ضمنی رہا تو اس کو اضافی دو چانس درجہ دوم کے دئے جاتے ہیں۔ مثال: 2015ء کے سالانہ امتحان میں عامہ اول کا امتحان دیا مگر مجاز ضمنی رہا۔ 2016ء کے سالانہ امتحان میں عامہ اول مجاز ضمنی و سال دوم کے تمام پرچہ جات کا امتحان دیا۔ عامہ سال دوم میں کامیاب رہا مگر عامہ سال اول میں پھر مجاز ضمنی یا ناکام رہا۔ کامیاب ہونے کی صورت میں چانس عامہ سال اول کے لئے استعمال کرکے عامہ اول کا امتحان ضمنی اور اگلے سالانہ میں دے سکتا ہے۔ ناکام ہونے کی صورت میں عامہ سال اول و دوم دوبارہ دینا ہوگا۔

عامہ/خاصہ سال اول کی کامیابی کے بعد سال دوم کا امتحان دو سال میں پاس کرنا ضروری ہے، زائد عرصہ کی صورت میں سال اول کالعدم ہوگا۔ درجہ عالیہ میں تین سال اور عالمیہ میں پانچ سال کے اندر سال دوم کا امتحان پاس کرنا ضروری ہے۔ ہر سالانہ امتحان کے بعد مجاز ضمنی قرار پانے والے امیدوار کے لئے دو چانس ہوتے ہیں: ضمنی و آئندہ سالانہ۔

درجہ متوسطہ میں امیدوار کی عمر کم از کم 12 سال اور عامہ سال اول میں 13 سال ہونا ضروری ہے۔

سالانہ امتحان میں عامہ اول، خاصہ اول، عالیہ اول، عالمیہ اول میں شرکت کی — اسی سالانہ کے متصل ضمنی امتحان میں نئے امیدوار کے طور پر بالترتیب عامہ دوم، خاصہ دوم، عالیہ دوم اور عالمیہ دوم میں شرکت نہیں کر سکتا۔ اگلے سال سالانہ میں ہی شرکت کا اہل ہے۔

ترقی درجہ (Improvement) کے لئے کسی بھی امتحان (ضمنی و سالانہ) میں شرکت کی اجازت ہے۔ نوٹ: ضروری ہے کہ جب تک اگلے درجے میں شرکت نہ کی ہو پچھلے درجے کے لئے ترقی درجہ کا امتحان دے سکتا ہے۔ عالمیہ سال دوم کی حد دو (2) سال ہے۔

تنظیم المدارس کے تحت منعقد ہونے والے کسی بھی درجہ کے امتحان میں صرف وہی طالب/طالبہ علم بطور امیدوار داخلہ کا اہل متصور ہوگا جو اس درجہ میں تنظیم سے ملحق کسی بھی دینی ادارے میں باقاعدہ طالب/طالبہ علم کی حیثیت سے داخل ہو اور تعلیم حاصل کر رہا ہو۔ کوئی پرائیویٹ امیدوار تنظیم کے امتحان میں شرکت کا اہل نہیں ہوگا۔

ہمارے صوبائی دفاتر

تنظیم المدارس صوبائی آفس پنجاب شمالی

صوبائی آفس پنجاب (شمالی)

تنظیم المدارس صوبائی آفس پنجاب جنوبی

صوبائی آفس پنجاب (جنوبی)

تنظیم المدارس صوبائی آفس خیبرپختونخواہ

صوبائی آفس خیبرپختونخواہ

تنظیم المدارس صوبائی آفس سندھ

صوبائی آفس سندھ

تنظیم المدارس صوبائی آفس بلوچستان

صوبائی آفس بلوچستان

تنظیم المدارس صوبائی آفس آزاد کشمیر

صوبائی آفس آزاد کشمیر

تاریخی پس منظر و خدمات

تاریخی پس منظر

دینی مدارس — جیسا کہ اس کے الفاظ سے عیاں ہے کہ اس سے مراد وہ مراکز علم و دانش ہیں جہاں دینی تعلیم وتربیت کے جوہر سے دلوں کو بہرہ مند کیا جاتا ہے اور نور ایمانی سے لبریز و منور کرنے کا عمل مبارک انجام پاتا ہے۔ دینی مدارس کے اعزاز کا اہم اور اعظم سبب ''صفہ و اصحاب صفہ'' کے ساتھ ان کی نسبت جمیلہ ہے اور ''صفہ'' وہ پہلی اسلامی درسگاہ ہے جس کے منتظم و معلم آقائے دوجہاں، معلم انس و جان حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی ذات والاصفات ہے۔ اس درسگاہ کے طلباء ''صحابیت'' کے اعلیٰ و ارفع مقام اور تاج عزت سے سرفراز ہیں۔ دنیا کی اس پہلی اسلامی یونیورسٹی کا محل وقوع ''مسجد نبوی'' علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی عطر بیز فضاؤں سے معطر ہے۔

آزاد فضا کا تقاضا

دین اسلام اور اس کی تعلیمات حریت فکر اور خودداری ایسے اوصاف جمیلہ سے سرشار ہونے کی وجہ سے ہمیشہ آزاد فضا کی متقاضی رہی ہیں اور اپنی سرشت و طبیعت کی وجہ سے دینی مراکز نے سرکاری سرپرستی کو کبھی بھی قبول نہیں کیا البتہ بعض خوش بخت مسلمان حکمرانوں نے ان اداروں کی آزادی و خودمختاری میں مداخلت کئے بغیر ان کی مدد و تعاون کو اپنے لئے اعزاز سمجھا اور اس مبنی بر اخلاص انداز میں مدارس کی سرپرستی یا معاونت کی کہ مدارس کے ذمہ داران نے بطیبِ خاطر قبول کیا۔

ہیئت ترکیبیہ و اہداف

مدارس ہمیشہ مساجد میں قائم رہے اور عامۃ المسلمین نے حصول علمِ دین کی خاطر دور دراز کا سفر طے کرکے آنے والے طلباء کو خوش آمدید کہا اور ان کیلئے قیام و طعام کا انتظام بھی کیا۔ اساتذہ نے نہ صرف اپنے دیگر معمولات میں سے وقت نکال کر ان طلباء کو فی سبیل اﷲ علم کی دولت سے مالامال کیا بلکہ ان کی ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا۔ زمانہ آگے بڑھتا رہا اور ماحول میں تبدیلی آتی رہی تو دینی تعلیم کے تقاضے بھی بدلتے رہے جس کے نتیجے میں یہ نظام تعلیم ''مساجد'' سے ''مدارس'' میں منتقل ہوا۔

تنظیم المدارس کا قیام

پیر ۳ شعبان المعظم ۱۳۷۹ھ یکم فروری ۱۹۶۰ء حضرت غزالی زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی کے زیر سرپرستی آپ کے تربیت یافتہ و دست راست حضرت مولانا غلام جہانیاں معینی رحمھما اﷲ کی سعی جمیلہ سے جامعہ معینیہ، ڈیرہ غازی خان میں مدارس اہل سنت کے مہتممین و منتظمین کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مربوط و جامع نصاب تعلیم اور یکساں نظام تعلیم کیلئے دینی مدارس کی تنظیم کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اس نیٹ ورک کا ''تنظیم المدارس الاسلامیہ پاکستان'' نام رکھا گیا۔

تشکیل نصاب تعلیم

اجلاس میں مدارس اہل سنت کیلئے جامع نصاب مرتب کرنے اور اس کے نفاذ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ۲۵ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ یکے بعد دیگرے کئی اجلاسوں کے بعد جامع نصاب مرتب ہوا جسے مئی ۱۹۶۰ء سے نافذ کر دیا گیا۔ غزالی زماں رازی دوراں امام اہل سنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمہ اﷲ نے نہ صرف اس تنظیم کو جدید اسلوب پر قائم کیا بلکہ اس کیلئے تگ و دو میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

نشأۃ ثانیہ

۱۴ ذوالحجہ ۱۳۹۳ھ / ۹ جنوری ۱۹۷۴ بروز بدھ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں اکابر علماء اہل سنت کا عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا اور اس تنظیم کو تنظیم المدارس (اہلسنت) پاکستان کے نام سے دوبارہ فعال بنانے کا فیصلہ ہوا۔ ابتدائی طور پر تین دفاتر کی منظوری دی گئی: مرکزی دفتر لاہور، صوبائی دفتر پنجاب و سرحد و آزاد کشمیر کیلئے راولپنڈی، اور صوبائی دفتر سندھ و بلوچستان کیلئے کراچی۔

شعبہ امتحانات

ابتدائی عرصہ تک امتحانات کو مرکز کنٹرول کرتا رہا لیکن 1981ء میں الگ شعبہ امتحانات قائم کیا گیا اور خودمختار امتحانی بورڈ کی منظوری دی گئی۔ تنظیم المدارس دو مجلسوں پر مشتمل ہے: مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ۔ مجلس شوریٰ کا اجلاس تین سال بعد ہوتا ہے جس میں عہدیداران کا انتخاب بھی عمل میں لایا جاتا ہے۔

اہداف کی طرف پیش قدمی

تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان نے جنوری ۱۹۷۴ء میں نشأۃ ثانیہ کے بعد اسی سال شعبان میں ملک بھر میں درجہ حدیث (درجہ عالمیہ) کا امتحان لیا اور اگلے سال ۱۹۷۵ء کے امتحان میں تحقیقی مقالہ بھی شامل کر دیا گیا۔ تنظیم المدارس نے ہمیشہ مدارس کی آزادی کو ہر صورت میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا اور مدارس کی آزادی کو کبھی داؤ پر نہیں لگایا۔

نتائج امتحانات

نتائج امتحانات تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان

سالانہ و ضمنی امتحانات کے نتائج یہاں دستیاب ہیں۔ اپنا رول نمبر درج کرکے نتیجہ معلوم کریں۔

نتائج دیکھیں

نظم المدارس

نظم المدارس — Nizm ul Madaris

تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان سے ملحقہ تمام مدارس کی تفصیلات، صوبہ وار فہرست اور الحاق کی معلومات یہاں دستیاب ہیں۔

تفصیلات دیکھیں

ڈاؤن لوڈز

ڈاؤن لوڈز

داخلہ فارم، نظام الاوقات، نصاب تعلیم، معادلہ فارم اور دیگر اہم دستاویزات یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں۔

ڈاؤن لوڈز دیکھیں

مینجمنٹ

مینجمنٹ و انتظامیہ

تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کی مرکزی و صوبائی انتظامیہ کی تفصیلات۔

نصاب تعلیم

نصاب تعلیم

تنظیم المدارس کا مکمل نصاب تعلیم (طلبہ و طالبات) نافذ العمل از شوال المکرم 1445ھ۔

پوزیشن ہولڈرز

پوزیشن ہولڈرز

سالانہ امتحانات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء و طالبات۔

ہمارے ساتھ رابطہ کریں

برائے رابطہ

تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، 8 راوی پارک، راوی روڈ، نزد مینار پاکستان، لاہور پاکستان
فون: 042-37731045-49
فیکس: 042-37731050
شعبہایکسٹینشنشعبہایکسٹینشن
معلومات (شعبہ امتحانات)102دفتر ناظم امتحانات107
ڈاک (ترسیل، آمد)103درستگی رزلٹ کارڈ112
شعبہ اکاونٹس104درستگی اسناد، ویریفکیشن113
امتحانات طلبہ105الحاق، حفظ و تجوید114
امتحانات طالبات106معلومات (مرکزی دفتر)124

اپنا پیغام چھوڑیں